ابنا: علاقے ميں داعش گروہ کي مشکوک اور غير انساني سرگرميوں کے پس پردہ حقائق کا دائرہ وسيع ہوتا جارہا ہے-جيسے جيسے وقت گزرتا جارہا ہے بدنام زمانہ داعش گروہ سے متعلق حقائق بھي ايک ايک کرکے سامنے آتے جارہے ہيں-
داعش گروہ نےگذشتہ تين برسوں کے دوران شام ميں ہرممکنہ جرم کا ارتکاب کيا اور اب عراق کو اپنے ظلم ف ستم کا نشانہ بنائے ہوئے ہے-
عراقي ذرائع نے انکشاف کيا ہے کہ موصل اور عراق کے ديگر شہروں پر دہشتگرد گروہ داعش کے حملوں کي ساري منصوبہ بندي اردن کے دارالحکومت امان ميں کي گئي تھي-
اس سلسلے کي پہلي خفيہ نشست ميں امريکہ، اسرائيل ، سعودي عرب، اردن اور ترکي کے نمائندوں اور اردن کے حکام کے علاوہ عراق کے معدوم ڈکٹيٹر صدام کے قريبي ساتھي اور نائب صدر عزت ابراہيم الدوري، کالعدم بعث پارٹي کے افراد، انصارالاسلام، جيش انصار السنہ جيسے دہشت گرد گروہوں کے نمائندے، اور موصل ميں موجود ليبيا کي ايک نماياں شخصيت نے شرکت کي -
اس نشست کا ايک اہم اور بڑا مقصد عراق ميں ہرج و مرج پيدا کرنا تھا تاہم اردن ميں مقيم ايک سفارتکار نے جو اس نشست ميں موجود تھا، صراحت کے ساتھ کہا کہ امان نشست کا مقصد ، سلفي اور تکفيري گروہوں کو امريکا اور اسرائيل کے مفادات کي خاطر استعمال کرناتھا-
داعش گروہ کي تين ساڑھے تين سال کي کارکردگي کا جائزہ لينے سے يہ بات بخوبي واضح ہوجاتي ہے کہ داعش کے ذريعے اسي ہدف کو شام ميں حاصل کرنے کي بھي کوشش کي گئ ہے-
قرائن و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جو کچھ عراق اور شام ميں پيش آرہا ہے وہ ان ملکوں ميں اقتدار کي تبديلي کے لئے بعض بيروني عوامل کے گٹھ جوڑ کا نتيجہ ہے جس کا مقصد علاقے ميں امريکا اور صيہوني حکومت کے مفادات کو پورا کرنا ہے-
اقوام متحدہ ميں شام کے مستقل نمائندے بشار جعفري نے بعض ايسے ثبوت و شواہد پيش کئے ہيں کہ جن سے ثابت ہوجاتا ہے قدس کي غاصب حکومت اور قطر کي حکومت دہشت گردوں کي مدد کر رہي ہے-
داعش گروہ بحران کا دائرہ علاقے کے کئي ملکوں تک پھيلا دينا چاہتا ہے ليکن يہ بحران شام، عراق اور لبنان تک محدود نہيں رہے گا بلکہ اس گروہ کے حامي ممالک بھي ايک دن اس بحران کي لپيٹ ميں آئيں گے -
.......
/169